مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ . باب: اس شخص کا باین ، جو ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے پسند ہو ، یا اس کے علاوہ ( کچھ دیکھتا ہے )
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسے خواب دیکھتا ہوں ، جو مجھے بیمار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھا خواب ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا ( برا ) خواب دیکھے ، تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ، تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن انہوں نے اس کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔