مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْيَهُودِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو یہودیوں کی اولاد سے تعلق رکھتا ہو اور قرآن سیکھے
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنَيْنِ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغِيثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَمُغِيثٌ : ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ وَلَمْ يُخْرِجْهُمَا أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبردہ ظفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کاہنوں میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو قرآن کا درس دے گا ( یا اس کو سیکھے گا ) اس کے بعد آنے والا کوئی شخص ، اُس کا درس نہیں دے گا ( یا اس کو نہیں سیکھے گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے عبداللہ بن مغیث کی ، ان کے والد کے حوالے سے ، ان کے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، عبداللہ نامی راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے اور مغیث کا ذکر ، امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب ” التاریخ“ میں کیا ہے ، ان دونوں کے حوالے سے کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔