مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 11654
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَلَا أَقُولُ ( الم ذَلِكَ الْكِتَابُ ) وَلَكِنِ الْأَلِفُ حَرْفٌ ، وَاللَّامُ حَرْفٌ ، وَالْمِيمُ حَرْفٌ ، وَالذَّالُ حَرْفٌ ، وَالْكَافُ حَرْفٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے قرآنِ مجید کا ایک حرف بھی پڑھا اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم ذٰلِكَ الْكِتٰبُ﴾ پورا ایک حرف ہے ، بلکہ ”الف“ ایک حرف ہے ، ”لام“ ایک حرف ہے ، ”میم“ ایک حرف ہے ، ”ذال “ایک حرف ہے اور ”کاف“ ایک حرف ہے ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم اوسط اور المعجم کبیر میں اور امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے ) ۔