مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَوْ قَالَ : جَمَعَ الْقُرْآنَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ إِنْ شَاءَ عَجَّلَهَا لَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنْ شَاءَ ادَّخَرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُقَاتِلُ بْنُ دُوَاكَ دُوزَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ كَمَا قِيلَ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ سُلَيْمَانَ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قرآن پڑھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جو شخص قرآن جمع کرے ( یعنی حفظ کرے ) تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ چیز ملے گی کہ اس کی دعا مستجاب ہو گی اگر وہ چاہے گا تو دنیا میں اس کی دعا کا اثر ظاہر ہو جائے گا اگر وہ چاہے گا تو ( اللہ تعالٰی ) آخرت کے لئے اس کی دعا کو سنبھال لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مقاتل بن دواک دوز ہے اگر تو یہ مقاتل بن حیان ہے جیسا کہ کہا: جاتا ہے تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ہے اور اگر یہ مقاتل بن سلیمان ہے تو پھر یہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔