مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ؛ ” جو شخص اللہ کی کتاب کی ایک آیت غور سے سنے تو اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی جو بڑھنے والی ہو گی اور جو شخص اس آیت کو تلاوت کر لے تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن میسرہ ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ( متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہ طباعت یا ناسخ کی غلطی ہے ) ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔