مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ ؟ " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤- سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص «سبحان الله العظيم» پڑھتا ہے ، اس کے لئے جنت میں پودا لگا دیا جاتا ہے ، جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اسے مکمل پڑھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے ، تو اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا ، جو اس سے زیادہ روشن ہو گا ، جتنی دنیا کے کسی گھر میں سورج کی روشنی ہوتی ہے ، اگر وہ روشنی اس گھر میں ہو ، تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ جو خود قرآن پر عمل کرتا ہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔