مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا نُسِخَ . باب: اس چیز کا بیان جو منسوخ ہو گئی ہے
حدیث نمبر: 11616
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : أَمَّنَا أُمَيَّةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ بِخُرَاسَانَ ، فَقَرَأَ بِهَا مِنَ السُّورَتَيْنِ : إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي سُورَةِ لَمْ يَكُنْ . ¤محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : اُمیہ بن عبداللہ بن خالد بن اُسید نے خراسان میں ، ہماری امامت کی اور وہاں دو سورتیں پڑھیں کہ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ! اس سے پہلے ، اس کے علاوہ ، ایک روایت ” سورت بینہ “ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔