مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ . باب: قرأتوں کا بیان
حدیث نمبر: 11607
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ "بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ ، وَهُوَ قَارِئٌ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : قِرَاءَتُهُ شَاذَّةٌ ، وَفِيهَا مَا يُنْكَرُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَاصِمٌ مِنْ أَبِي بَكْرَةَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جی ہاں ! بلکہ تمہارے پاس میری آیات آ گئیں اور تم نے اُن کی تکذیب کی اور تم نے تکبر کیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے اور وہ قرآن کا عالم ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی قرأت شاذ ہوتی ہے اور اس کی قرات میں منکر چیزیں ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، عاصم نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔