حدیث نمبر: 11588
وَعَنْ زَيْدٍ الْقَصَّارِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كُنَّا مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَحَدَّثَنَا سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَقْرَأَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سُورَةً ، وَأَقْرَأَنِيهَا زَيْدٌ ، وَأَقْرَأَنِيهَا أَبِي ، فَاخْتَلَفَتْ قِرَاءَتُهُمْ ، فَقِرَاءَةُ أَيِّهِمْ آخُذُ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - جَنْبَهُ ] فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لِيَقْرَأْ كُلُّ إِنْسَانٍ كَمَا عَلِمَ ، فَكُلٌّ حَسَنٌ جَمِيلٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

زید قصار ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ہم ان کے ساتھ مسجد میں موجود تھے انہوں نے ہمیں کچھ دیر احادیث بیان کیں ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک سورت سکھائی ہے ، وہی سورت ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے ، وہی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے تو ان کی قرأت کے درمیان اختلاف ہے ، تو میں اُن میں سے کس کی قرأت کو اختیار کروں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ہر انسان کو اس طرح پڑھنا چاہیے ، جس طرح اُسے سکھایا گیا ہو ، یہ سب اچھا اور خوبصورت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11588
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً