حدیث نمبر: 11583
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " إِنَّ الْكُتُبَ كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : حَلَالٌ ، وَحَرَامٌ ، وَمُحْكَمٌ ، وَمُتَشَابِهٌ ، وَضَرْبُ أَمْثَالٍ ، وَأَمْرٌ ، وَزَجْرٌ . فَأَحِلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرِّمْ حَرَامَهُ ، وَاعْمَلْ بِمُحْكَمِهِ ، وَقِفْ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ ، وَاعْتَبِرْ أَمْثَالَهُ ، فَإِنَّ كُلًّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بے شک ( دوسری الہامی ) کتابیں ، آسمان سے ایک ہی دروازے سے نازل ہوئی ہیں اور قرآن سات دروازوں سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ، حلال ، حرام ، محکم ، متشابہ ، مثالیں بیان کرنا ، امر اور زجر ( کسی بات سے روکنا ) تو تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام سمجھو ، اس کے محکم پر عمل کرو ، اس کے متشابہ پر خاموش ہو جاؤ ، اس کی مثالوں سے نصیحت حاصل کرو ، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، اور صرف عقل مند لوگ ہی ( اس سے ) نصیحت حاصل کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے “ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن مطر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11583
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8296)»