مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ باب: قرأتوں کا بیان ، نیز قرآن کتنے حروف پر نازل ہوا ہے ؟
وَفِي رِوَايَةٍ " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ( جیسے ) علم رکھنے والا ، حکمت والا ۔ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ۔ یہ تمام روایات دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین مرتبہ قرآن پڑھا گیا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہماری قرات ہی آخری قرأت ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان کی روایت کے یہ الفاظ حدیث کا حصہ ہیں ، یا نہیں ہیں ؟ یعنی یہ الفاظ : ” کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری قرأت ہی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : عُرِضَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ . قَالَ : فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا هِيَ الْأَخِيرَةُ ، فَلَا أَدْرِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، أَوْ غَيْرِهِ - يَعْنِي فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سمرہ (بن جندب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «قرآنِ مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تین بار پیش کیا گیا (دہرایا گیا) » ۔ (راوی کہتے ہیں : ) وہ (علماء و صحابہ) سمجھتے تھے کہ ہماری یہ (عام) قرائت وہی آخری پیشی والی (عرضہِ اخیرہ کے مطابق) ہے ؛ (راوی کہتے ہیں : ) اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ جملہ — یعنی ” وہ سمجھتے تھے کہ ہماری قرٱت وہی آخری قرٱت ہے “ — اسی حدیث کا حصہ ہے یا کسی دوسری روایت سے ہے ۔
اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔