مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ باب: قرأتوں کا بیان ، نیز قرآن کتنے حروف پر نازل ہوا ہے ؟
حدیث نمبر: 11573
وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ هَذَا : تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْآخَرُ : تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَسَأَلَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں کے درمیان قرآن کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ایک نے کہا: میں نے یہ آیت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ، دوسرے نے کہا: میں نے بھی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو سات حروف پر پڑھا جا سکتا ہے ، تو تم لوگ قرآن کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہو ، کیونکہ قرآن میں اختلاف کرنا ( یا بحث کرنا ) کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔