حدیث نمبر: 11571
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَزِدْهُ ، فَاسْتَزَادَهُ . قَالَ : اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ . قَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ ، فَاسْتَزَادَهُ . قَالَ : اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَزِدْهُ ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ . قَالَ : كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ يَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ ، أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ ، نَحْوُ قَوْلِكَ : تَعَالَ وَأَقْبِلْ ، وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ ، وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَاذْهَبْ وَأَدْبِرْ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ تُوبِعَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے سیدنا محمد ! آپ قرآن کو ایک حرف کے مطابق پڑھیں تو سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید کے بارے میں کہا: ، تو سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ اس کو دو حروف کے مطابق پڑھ لیں ، سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید کے بارے میں کہا: ، تو انہوں نے کہا: آپ تین حروف کے مطابق پڑھ لیں ، سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ، یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یا سیدنا جبرائیل نے ) ارشاد فرمایا : سب کافی و شافی ہیں ، جب تک عذاب سے متعلق آیت کو رحمت ، یا رحمت سے متعلق آیت کو عذاب والی نہ بنا دیا جائے ، جیسے آپ کا یہ کہنا : تعال ، یا اقبل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم آ جاؤ ) یا ھلم یا اذہب ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ چلے جاؤ ) یا اسرع ، اور اعجل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم جلدی کرو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” اذہب اور ادبر “ ( یعنی تم چلے جاؤ ) نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس کی متابعت کی گئی ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11571
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (51/5)»