حدیث نمبر: 11569
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : مَنْ أَقْرَأَكَهَا ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غَيْرِ هَذَا . فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آيَةُ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ قَرَأَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . وَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَأَيُّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ ، وَلَا تُمَارُوا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ إِنَّهُ الْكُفْرُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابوقیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ، تو اس سے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کے رسول نے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے تو یہ اس سے مختلف طور پر پڑھائی ہے ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں ، فلاں آیت ، پھر ان صاحب نے وہ آیت تلاوت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر دوسرے صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی آیت پڑھی اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس طرح نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے ، تو تم جس بھی قرأت کو کر لو گے ، تم درست کرو گے ، تم اس کے بارے میں بحث کا شکار نہ ہونا ، کیونکہ اس کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسا کرنا اس کا کفر کرنے کے مترادف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (205/5)»