مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ باب: قرأتوں کا بیان ، نیز قرآن کتنے حروف پر نازل ہوا ہے ؟
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ جِبْرِيلَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ وَإِلَى مَنْ لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ " . قَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . فَقَالَ : اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ” احجار مراء “ کے مقام پر ، سیدنا جبرائیل سے ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ایک ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا جنہوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی تو سیدنا جبرائیل نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ ایک حرف کے مطابق قرآن پڑھیں سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: ) تو سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ دو حروف پر پڑھ لیں سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کے بارے میں کہا: ) یہاں تک کہ وہ سات حروف تک پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔