مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ باب: معوذتین کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ زِرٍّ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ . قِيلَ لِسُفْيَانَ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمْ يُنْكِرْ . قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قِيلَ لِي فَقُلْتُ " . فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا حَكَّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤زر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی قرآن مجید میں سے ، ان دو سورتوں کو مٹا دیتے ہیں ، یہاں سفیان نامی راوی سے دریافت کیا گیا : کیا اُن کی مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ؟ تو سفیان نے اس بات کا انکار نہیں کیا ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے زر کو جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ سے یہ کہا: گیا کہ ( میں ان کو پڑھوں ) تو میں نے ان کو پڑھا ( سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تو ہم بھی اُسی طرح پڑھتے ہیں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے : اُن دونوں کو مصحف میں سے مٹایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔