حدیث نمبر: 11559
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُمْرَةٍ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ وَاقِمٍ اسْتَقْبَلَتْنَا ضَبَابَةٌ فَأَضَلَّتْنَا الطَّرِيقَ ، فَلَمْ نَشْعُرْ حَتَّى طَلَعْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ عَدَلَ إِلَى كَثِيبٍ فَأَنَاخَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ وَقَامَ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَمَا زَالَ يُصَلِّي حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسِ نَاقَتِهِ ، ثُمَّ مَشَى وَعَبْدُ اللَّهِ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى جَنْبِهِ ، مَا أَحَدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَهُ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " . قُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهَا . ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " . قُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَكَذَا فَتَعَوَّذْ ، فَمَا تَعَوَّذَ الْعِبَادُ بِمِثْلِهِنَّ قَطُّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

اور سیدنا عبداللہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عمرے میں (سفر پر) تھے ، یہاں تک کہ جب ہم بطنِ واقم کے مقام پر پہنچے تو ہمیں شدید دھند (یا بادل) نے آ گھیرا اور ہم راستہ بھول گئے ۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی یہاں تک کہ ہم ایک گھاٹی پر جا نکلے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ریت کے ٹیلے کی طرف مڑے اور وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے ) کھڑے ہو گئے اور اللہ نے جن کو چاہا وہ بھی آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑے ہو گئے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی مَہار (نکیل) پکڑی اور پیدل چلنے لگے اور عبداللہ اسلمی رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے ، (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور نہ تھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (مبارک) ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور فرمایا : ” پڑھو ! “ ۔ میں نے عرض کیا : میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ - مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ، یہاں تک کہ میں اس (پوری سورت) سے فارغ ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” پڑھو ! “۔ میں نے عرض کیا : میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ ، یہاں تک کہ میں اس (پوری سورت) سے بھی فارغ ہو گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی طرح پناہ مانگو ، کیونکہ بندوں نے ان سورتوں کے جیسے کلمات سے کبھی پناہ نہیں مانگی “ ۔
(اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں) ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح