مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 100 - سُورَةُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَمَا وَرَدَ فِيهَا مِنَ الْفَضْلِ وَمَا ضُمَّ إِلَيْهَا مِنَ الْفَضْلِ باب: سورت اخلاص کا بیان نیز اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کے ساتھ جو فضیلت ملائی گئی ہے “
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ . فَنَزَلَتْ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) إِلَى آخِرِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : انْسُبِ اللَّهَ . وَفِيهِ مَجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ لَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پروردگار کا نسب ہمارے سامنے بیان کریں ! تو یہ سورت نازل ہوئی : ” تم فرما دو ! کہ وہ اللہ ایک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، یہ سورت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اللہ کا نسب بیان کریں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس نے شعبی کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔