مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 98 - سُورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ باب: سورت نصر کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي بِأَنِّي مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَلَفْظُهُ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " ، فَبَكَتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَفِي إِسْنَادِهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ قَالَ : يَحْيَى ثِقَةٌ مَأْمُونٌ لَمْ يَتَغَيَّرْ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی : ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے میری وفات قریب ہونے کی اطلاع دے دی گئی ہے کہ میں اسی سال فوت ہو جاؤں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور یہ ارشاد فرمایا : مجھے میری وفات کی اطلاع دے دی گئی ہے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے ، یحیی کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے یہ تغیر کا شکار نہیں ہوا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔