مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 94 - سُورَةُ أَلْهَاكُمْ باب: سورت تکاثر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی : ” پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا “ ۔ تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے عرض کی ! یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہمارے پاس تو یہ دو چیزیں ہیں ، پانی اور کھجور ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ( نعمتیں ، تمہارے پاس ) عنقریب آ جائیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔