حدیث نمبر: 11483
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَشْرِقِ ثَقِيفٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ يَبْتَغِي عِنْدَهُمُ النَّصْرَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ حَتَّى خَتَمَهَا ، قَالَ : فَوَعَيْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ ، ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَدَعَتْنِي ثَقِيفٌ ، فَقَالُوا : مَا سَمِعْتَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ : نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا ، لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ مَا يَقُولُ حَقًّا لَاتَّبَعْنَاهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن خالد عدوانی ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثقیف قبیلے کے مشرقی حصے میں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کمان یا شاید عصا لے کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ ثقیف قبیلے کے لوگوں سے مدد طلب کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت طارق کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، آپ نے یہ پوری سورت پڑھی ، تو میں نے یہ سورت پوری یاد کر لی ، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ، میں اُس وقت مشرک تھا ، پھر بعد میں ، مسلمان ہو جانے کے بعد بھی میں نے یہ سورت پڑھی ، ایک مرتبہ ثقیف قبیلے کے لوگوں نے مجھے بلایا اور کہا: تم نے ان صاحب کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ میں نے ان کے سامنے سورت طارق پڑھی ، تو ثقیف قبیلے کے لوگوں کے ساتھ جو قریش موجود تھے ، انہوں نے یہ کہا: ہم اپنے متعلقہ فرد کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ، اگر ہم یہ علم رکھتے کہ وہ جو بات کہتے ہیں ، وہ حق ہے ، تو ہم نے اُن کی پیروی کر لینی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبدالرحمن نامی راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11483
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4126) اخرجه احمد فى المسند (335/4)»