مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى . باب: سورت قیامہ کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کرے “
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا [ فَبَلَغَ ] ( فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ، [ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ ] وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ : [ بَلَى ] وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ : بَلَى " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًا ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ ؟ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حِجَّةً ، مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ . قُلْتُ : الْقَوْلُ فِي آخِرِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلَانِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” جو شخص سورت مرسلات کی تلات کرے اور اس مقام پر پہنچے : ” تو وہ لوگ اس کے بعد کون سے کلام پر ایمان رکھیں گے ؟ “ تو اس شخص کو یہ کہنا چاہیے : کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اور جو شخص سورت تین کی تلاوت کرے ، تو اُسے یہ کہنا چاہیے : جی ہاں ! میں بھی اس بات کے گواہوں میں سے ایک ہوں ۔ اور جو شخص یہ آیت تلاوت کرے : ” کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے “ ۔ تو اُس شخص کو یہ کہنا چاہیے : کہ جی ہاں ! ( یعنی وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے ) ۔ اسماعیل نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا میرے استاد کو
یہ روایت یاد ہے ؟ کیونکہ وہ ایک دیہاتی شخص تھا ، تو اس استاد نے کہا: اے میرے بھتیجے ! کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ مجھے
یہ روایت یاد نہیں ہو گی ؟ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں اور جس سال میں نے جس اونٹ پر حج کیا تھا ، اُس اونٹ کو بھی میں الگ سے پہچانتا ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورت تین کے بارے میں جو کلمات ہیں ، وہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔