مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ باب: سورت مدثر کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ صَنَعَ لِقُرَيْشٍ طَعَامًا ، فَلَمَّا أَكَلُوا قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : سَاحِرٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِسَاحِرٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : كَاهِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِكَاهِنٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : شَاعِرٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِشَاعِرٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : سِحْرٌ يُؤْثَرُ . [ وَأُجْمِعَ قَوْلُهُمْ عَلَى أَنَّهُ سِحْرٌ يُؤْثَرُ ] فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَزِنَ وَقَنَّعَ رَأْسَهُ وَتَدَثَّرَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ولید بن مغیرہ نے قریش کے لئے کھانا تیار کیا جب انہوں نے کھانا کھا لیا تو ولید نے کہا: تم لوگ ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کسی نے کہا: وہ جادوگر ہیں کسی نے کہا: وہ جادوگر نہیں ہیں کسی نے کہا: وہ کاہن ہیں کسی نے کہا: وہ کاہن نہیں ہیں کسی نے کہا: وہ شاعر ہیں کسی نے کہا: وہ شاعر نہیں ہیں کسی نے کہا: یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے پھر ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ غمگین ہو گئے ، آپ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے چادر اوڑھنے والے ! تم اُٹھو اور تم ( لوگوں کو ) ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور بتوں سے الگ رہو اور ( اس مقصد کے تحت ) احسان نہ کرو ، کہ تم کثرت کے طلبگار ہو اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔