مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَأَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَ لِأَحَدٍ ذَلِكَ غَيْرُهُمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ، جسے قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی ، اور میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ، جو اپنا سر ( قیامت کے دن سجدہ سے ) اٹھائے گا ، میں اپنے سامنے دیکھوں گا ، تو تمام امتوں کے درمیان ، اپنی امت کو پہچان لوں گا ، میرے پیچھے بھی اسی طرح ہو گا ، میرے دائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ، میرے بائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ( یعنی دیگر تمام امتوں کے درمیان ، میں اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ) ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر ، اپنی امت تک کی دیگر تمام امتوں کے درمیان ، اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو کے اثر کی وجہ سے ، وہ لوگ روشن اور چمکدار ہوں گے ، یہ نشانی اُن کے علاوہ کسی اور کی نہیں ہو گی ، میں انہیں پہچان لوں گا ، کہ اُن کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے ، اور میں انہیں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے اُن کے آگے بھاگ رہے ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے اور طرق بھی ہیں ، جو آگے چل کر ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں آئیں گے ۔