حدیث نمبر: 11396
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَحُورٌ عِينٌ قَالَ : " حُورٌ : بِيضٌ ، عِينٌ : ضِخَامُ الْعُيُونِ ، شُفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النُّسُورِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ قَالَ : " صَفَاؤُهُنَّ صَفَاءُ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَمْ تَمَسَّهُ الْأَيْدِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ( فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ) قَالَ : " خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ حِسَانُ الْوُجُوهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ قَالَ : " رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي رَأَيْتِ فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ وَهُوَ الْغِرْقِئُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عُرُبًا أَتْرَابًا قَالَ : " هُنَّ اللَّوَاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ رُمْصًا شُمْطًا ، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى ، عُرُبًا مُتَعَشِّقَاتٍ مُتَحَبِّبَاتٍ ، أَتْرَابًا عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ ؟ قَالَ : " بَلْ نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَبِمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " بِصَلَاتِهِنَّ وَصِيَامِهِنَّ وَعِبَادَتِهِنَّ اللَّهَ ، أَلْبَسَ اللَّهُ وُجُوهَهُنَّ النُّورَ ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ ، بِيضُ الْأَلْوَانِ ، خُضْرُ الثِّيَابِ ، صُفْرُ الْحُلِيِّ ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ ، يَقُلْنَ : أَلَا وَنَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا ، طُوبَى لِمَنْ كُنَّ لَهُ وَكَانَ لَنَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ ، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا ، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، إِنَّهَا تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” اور خوبصورت بڑی آنکھوں والی حوریں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حور سے مراد یہ ہے کہ وہ گوری چٹی ہوں گی ، اور عین سے مراد یہ ہے کہ ان کی آنکھیں بڑی ہوں گی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” وہ چھپا کے رکھے گئے موتیوں کی مانند ہوں گی“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی عمدگی صاف موتی کی طرح ہو گی ، جو صدف کے اندر ہوتا ہے ، جسے ہاتھ نہ لگے ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” ان میں اچھی عادات اور خوبصورت چہروں والی ( حوریں ) ہوں گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یعنی ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” یوں جیسے وہ چھپا کے رکھے گئے انڈے ہوں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جیسے وہ جلد باریک ہوتی ہے ، جسے تم انڈے کے اندرونی حصے میں جھلی کے ساتھ ملا ہوا دیکھتی ہو ، اور وہ غرقی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” محبت کرنے والی اور ایک جتنی عمر کی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں جو دنیا میں جب وفات پائیں گی ، تو بوڑھی ہو چکی ہوں گی اور اللہ تعالٰی ان کے بڑھاپے کے بعد جب انہیں بنائے گا ، تو انہیں کنواری بنا دے گا ، لفظ عرب کا مطلب یہ ہے کہ وہ عشق اور محبت کرنے والی ہوں گی اور لفظ اتراب کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی عمر کی ( یعنی نوجوان ) ہوں گی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ، یا حورعین ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ دنیا کی خواتین حورعین پر وہی فضیلت رکھتی ہیں ، جو لباس کے بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر فضیلت حاصل ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی وجہ ان خواتین کی نماز ، اُن کے روزے ، اور اُن کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ اُن کے چہروں پر نور ڈال دے گا ، اُن کے جسموں پر ریشم ڈالے گا ، اُن کے رنگ سفید ہوں گے کپڑے سبز ہوں گے ، زیور زرد ( یعنی سونے ) کے ہوں گے ، اُن کی انگیٹھیاں قیمتی پتھروں کی ہوں گی اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، اور وہ یہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ، ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی پرانی نہیں ہوں گی ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اُس شخص کے لئے مبارک باد ہے کہ ہم جس کے لئے ہوں گی اور جو ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی عورت دنیا میں ، دو یا تین ، یا چار افراد کے ساتھ ( یکے بعد دیگرے ) شادی کرتی ہے ، پھر وہ فوت ہو جاتی ہے اور جنت میں داخل ہوتی ہے اور اس کے سابقہ شوہر بھی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، تو جنت میں اس کا شوہر کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ، تو وہ عورت اُس ( شوہر ) کو اختیار کرے گی ، جس کا اخلاق اُن سب میں سے اچھا ہو گا ، وہ عرض کرے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا میں یہ شخص سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک تھا ، تو اس کے ساتھ میری شادی کروا دے ، اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ، جسے ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف