مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ نَهْرٍ يُغْتَسَلُ مِنْهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا عَسَى أَنْ يُبْقِينَ عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ ؟ يَقُومُ إِلَى الْوُضُوءِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ، فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَسَّ بِهَا يَدَيْهِ ، وَيُمَضْمِضُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَتْ بِهَا عَيْنَاهُ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ سَمِعَتْ بِهَا أُذُنَاهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْ بِهَا قَدَمَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اُمت کی مثال نہر کی مانند ہے ، جس میں پانچ مرتبہ غسل کیا جاتا ہے ، تو ایسے شخص پر کوئی میل باقی نہیں رہے گا ( اسی طرح میری امت کا کوئی شخص ) وضو کے لیے اٹھتا ہے اور دونوں ہاتھ دھوتا ہے ، تو اس کا ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے چھوا تھا ، جب وہ کلی کرتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ، پھر وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جسے اُس کے کانوں نے سنا تھا ، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کی طرف اُس کے پاؤں چل کر گئے تھے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔