مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور قوم عاد میں ( بھی ایک نشانی ہے ) جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ [ الَّتِي أُهْلِكُوا فِيهَا ] إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ ، فَمَرَّتْ بِأَهْلِ الْبَادِيَةِ فَحَمَلَتْ مَوَاشِيَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَهْلُ الْحَاضِرِ قَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ، فَأَلْقَتْ أَهْلَ الْبَادِيَةِ وَمَوَاشِيَهُمْ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد پر وہ ہوا بھیجی ، جس میں وہ ہلاکت کا شکار ہوئے ، تو اس کے صرف اتنے حصے کو کھولا گیا تھا ، جتنی ایک انگوٹھی کی جگہ ہوتی ہے ، وہ دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزری ، تو اس نے ان کے جانور اور اموال ، زمین اور آسمان کے درمیان اٹھا لیے ، جب شہری لوگوں نے اس ہوا کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ تو بادل ہے جو ہم پر بارش نازل کرے گا تو اس ہوا نے دیہاتی لوگوں کو اور ان کے جانوروں کو شہری لوگوں پر ڈال دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔