حدیث نمبر: 11362
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " افْتَخَرَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : يَا رَبِّ ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي ، أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعْتِ كُلَّ شَيْءٍ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا . فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا فَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ " قَالَ : " وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَأْتِيَهَا اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا [ فَتَزْوِي ] فَتَقُولُ : قَدْنِي قَدْنِي . وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مُحَالًا عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لِأَنَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ رَوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت اور جہنم نے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار کیا ، جہنم نے کہا: اے میرے پروردگار ! جابر ، متکبر بادشاہ اور معززین مجھ میں داخل ہوں گے ، جنت نے کہا: کمزور ، غریب اور مسکین لوگ مجھ میں داخل ہوں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا : تم میرا عذاب ہو ، میں تمہارے ذریعے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا ، اور جنت سے یہ فرمایا : تم میری رحمت ہو ، جو ہر چیز سے وسیع ہے ، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرا جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ جہنم میں اُس کے اہل افراد کو ڈالے گا ، تو وہ دریافت کرے گی : کیا اور ہیں ؟ اللہ تعالیٰ پھر اس میں ( لوگوں کو ) ڈالے گا : تو وہ دریافت کرے گی : کیا اور ہیں ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے پاس آئے گا اور اپنا قدم اُس پر رکھ دے گا ، تو وہ بل کھانے لگے گی اور کہے گی : بس ! بس ! جہاں تک جنت کا تعلق ہے ، تو جتنے لوگ ، اللہ کو منظور ہو گا ، اس میں رہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جتنی مخلوق کو چاہے گا ، پیدا کرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کی طرف منسوب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، کیونکہ حماد بن سلمہ نے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے عطاء بن سائب سے روایات نقل کی تھیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (13/3)»