حدیث نمبر: 11359
عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ ، فَكَانَ إِذَا دَعَاهُ بِلَقَبِهِ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَبِيرَةَ نَفْسِهِ ، وَهُنَا عَنْهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوجبیرہ بن ضحاک ، اپنے چچاؤں کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، اس وقت ہم میں سے ہر ایک شخص کا کوئی ایک لقب ، یا دو لقب ( یعنی برے نام ) ہوتے تھے ، جب کوئی شخص اُسے بلاتا تھا ، تو اس نام کے حوالے سے بلاتا تھا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” سنن “ میں سیدنا ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کے طور پر مذکور ہے اور یہاں یہ ان کے حوالے سے ، ان کے چچاؤں سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (69/4)»