مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ان کی مخصوص نشانی ان کے چہروں پر موجود سجدے کے نشان ہیں “
حدیث نمبر: 11348
وَعَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِذْ جَاءَ الزُّبَيْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَفِي وَجْهِهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ الزُّبَيْرُ ، قَالَ : لَقَدْ أَفْسَدَ هَذَا وَجْهَهُ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا هِيَ السِّيمَاءِ الَّتِي سَمَّاهَا اللَّهُ ، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ عَلَى وَجْهِي مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً مَا أَثَّرَ السُّجُودُ بَيْنَ عَيْنَيَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
جعید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں سائب بن یزید کے پاس موجود تھا ، اسی دوران زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف تشریف لائے ، ان کے چہرے پر سجدے کا نشان موجود تھا ، جب سائب نے انہیں دیکھا تو دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا یہ زبیر ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اس نے اپنے چہرے کو خراب کر لیا ہے ، اللہ کی قسم ! جس نشان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، اُس سے مراد یہ والا نشان نہیں ہے ، میں اسی سال سے نماز پڑھ رہا ہوں ، لیکن میری دونوں آنکھوں کے درمیان تو کوئی نشان نہیں بنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔