مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ . 11337 عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَوْمًا ] وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ يَوْمَ عِيدِهِمْ ، فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْكُمْ يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يَحُطُّ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي عَلَيْهِ " ، فَأَسْكَتُوا ، فَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " أَبَيْتُمْ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا الْحَاشِرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَأَنَا الْمُقَفَّى آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ " . ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى [ أَنَّنَا ] كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ ، فَقَالَ : كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقْبَلَ ، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ : أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي مِنْكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ؟ قَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ فِينَا رَجُلًا كَانَ أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَا أَفْقَهَ مِنْكَ وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ . قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ . قَالُوا : كَذَبْتَ ، ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ [ وَقَالُوا فِيهِ ] شَرًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتُمْ لَنْ نَقْبَلَ مِنْكُمْ قَوْلَكُمْ " . قَالَ : فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا وَابْنُ سَلَامٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک گواہ نے اس کی مانند گواہی دی “
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَوْمًا ] وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ يَوْمَ عِيدِهِمْ ، فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْكُمْ يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يَحُطُّ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي عَلَيْهِ " ، فَأَسْكَتُوا ، فَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " أَبَيْتُمْ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا الْحَاشِرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَأَنَا الْمُقَفَّى آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ " . ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى [ أَنَّنَا ] كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ ، فَقَالَ : كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقْبَلَ ، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ : أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي مِنْكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ؟ قَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ فِينَا رَجُلًا كَانَ أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَا أَفْقَهَ مِنْكَ وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ . قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ . قَالُوا : كَذَبْتَ ، ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ [ وَقَالُوا فِيهِ ] شَرًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتُمْ لَنْ نَقْبَلَ مِنْكُمْ قَوْلَكُمْ " . قَالَ : فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا وَابْنُ سَلَامٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مَذْكُورٌ فِي سُورَةِ الذَّارِيَاتِ . ¤سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، میں آپ کے ساتھ تھا ، ہم لوگ یہودیوں کی ایک عبادت گاہ میں داخل ہوئے ، یہ ان لوگوں کے عید کے دن کی بات ہے ، ان لوگوں کو ہمارا ان کے پاس جانا اچھا نہیں لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! تم اپنے میں سے بارہ افراد مجھے دکھاؤ ، جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو آسمان کی چھت کے نیچے ہر یہودی پر جو غضب نازل ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے گا ، تو وہ لوگ خاموش رہے ، ان میں سے کسی نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات ان کے سامنے دہرائی تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اپنی بات بیان کی ، تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ نہیں مانتے ، تو اللہ کی قسم ! میں حاشر ہوں ، میں عاقب ہوں ، میں مقفی ہوں ، خواہ تم لوگ ایمان لاؤ ، یا تم لوگ تکذیب کرو ! پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مڑ گئے ، میں آپ کے ساتھ تھا ، قریب تھا کہ ہم وہاں سے باہر نکل آتے ، آپ کے پیچھے سے ایک شخص نے پکار کر کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! رک جائیں ، پھر وہ شخص آگے آیا ، پھر اس شخص نے کہا: اے یہودیوں کے گروہ ! تم اپنے میں سے مجھے کیسا فرد جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمیں اپنے درمیان ایسے کسی فرد کا علم نہیں ہے ، جو اللہ کی کتاب ( یعنی تورات ) کے بارے میں آپ سے زیادہ علم اور آپ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ، اور آپ سے پہلے آپ کے والد سے زیادہ علم رکھتا ہو ، اور آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ علم رکھتا ہو ، تو اس شخص نے کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ یہ اللہ کے نبی ہیں ، جن کا ذکر تم لوگ تورات میں پاتے ہو ، تو ان لوگوں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، پھر اُن لوگوں نے ان صاحب کی بات مسترد کر دی ، اُن کے بارے میں بری باتیں کیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے جھوٹ بولا: ہے ، ہم تم سے تمہارا قول قبول نہیں کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم تین افراد وہاں سے نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں تھا اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” تم فرما دو ! کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم لوگوں نے اس کا کفر کیا ہو ، اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک گواہ نے اس کے بارے میں گواہی دے دی ہو ، اور وہ ایمان لے آئے ، اور تم لوگ تکبر ( کرتے ہوئے انکار ) کرو ، تو بے شک اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔