مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 45 - سُورَةُ الدُّخَانِ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضِ . باب: سورت دخان کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تو ان پر آسمان اور زمین نہیں روئے “
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ فِي السَّمَاءِ بَابَانِ ، بَابٌ يَدْخُلُ عَمَلُهُ وَبَابٌ يَخْرُجُ فِيهِ عَمَلُهُ وَكَلَامُهُ ، فَإِذَا مَاتَ فَقَدَاهُ وَبَكَيَا عَلَيْهِ " ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ( فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ ) ، فَذَكَرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْمَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ عَمَلًا صَالِحًا يَبْكِي عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَصْعَدْ لَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَا عَمَلِهِمْ كَلَامٌ طَيِّبٌ وَلَا عَمَلٌ صَالِحٌ فَيَفْقِدُهُمْ فَيَبْكِيَ عَلَيْهِمْ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی بندہ ہے ، اس کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ، ایک دروازے سے اُس کا عمل داخل ہوتا ہے اور ایک دروازے میں سے اس کا عمل اور اس کا کلام باہر آتا ہے ، جب وہ شخص مر جاتا ہے ، تو وہ دونوں اُس کو غیر موجود پاتے ہیں ، اور اس پر روتے ہیں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تو ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر آپ نے یہ بات ذکر کی کہ وہ لوگ زمین پر کوئی نیک عمل کرتے ہی نہیں تھے کہ ( زمین ) اُن پر روتی اور نہ ہی آسمان کی طرف ان کے کلام ، یا اُن کے عمل میں سے کوئی پاکیزہ کلام ، یا نیک عمل اوپر جاتا تھا کہ آسمان اُن کو غیر موجود پا کر ان پر روتا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔