حدیث نمبر: 11302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَبْسَ يُونُسَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْحُوتِ أَنْ لَا تَخْدِشَنَّ لَهُ لَحْمًا وَلَا تَكْسِرَنَّ لَهُ عَظْمًا ، فَأَخَذَهُ ثُمَّ أَهْوَى بِهِ إِلَى مَسْكَنِهِ فِي الْبَحْرِ ، فَلَمَّا انْتَهَى بِهِ إِلَى أَسْفَلِ الْبَحْرِ سَمِعَ يُونُسُ حِسًّا فَقَالَ فِي نَفْسِهِ : مَا هَذَا ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَيْهِ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ : إِنَّ هَذَا تَسْبِيحُ دَوَابِّ الْأَرْضِ ، فَسَبَّحَ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ ، فَسَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ تَسْبِيحَهُ فَقَالُوا : رَبَّنَا إِنَّا نَسْمَعُ صَوْتًا ضَعِيفًا بِأَرْضِ غُرْبَةٍ ، فَقَالَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ذَلِكَ عَبْدِي يُونُسُ ، عَصَانِي فَحَبَسْتُهُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ ، فَقَالُوا : الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي كَانَ يَصْعَدُ إِلَيْكَ مِنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عَمَلٌ صَالِحٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَشَفَعُوا لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ الْحُوتَ فَقَذَفَهُ فِي السَّاحِلِ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَهُوَ سَقِيمٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سیدنا یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھے ، تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف یہ وحی کی کہ تم نے اس کے گوشت کو نوچنا نہیں ہے ، اور اس کی ہڈی کو توڑنا نہیں ہے ، مچھلی نے سیدنا یونس علیہ السلام کو لیا اور پھر انہیں ساتھ لے کر سمندر میں اپنی رہائشی جگہ تک پہنچ گئی ، جب وہ سمندر کے نیچے والے حصے تک پہنچ گئی ، اور سیدنا یونس علیہ السلام کو وہاں ایک آواز محسوس ہوئی ، تو انہوں نے دل میں سوچا کہ یہ کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی نازل کی ، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے کہ یہ زمین کے چوپایوں کی تسبیح ہے تو سیدنا یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں موجود رہنے کے دوران تسبیح بیان کی ، جب فرشتوں نے اُن کی تسبیح سنی ، تو انہوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں زمین کے دور دراز کے حصے میں ، ایک کمزوری سی آواز آ رہی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ میرا بندہ یونس ہے ، جس نے میری بات نہیں مانی ، تو میں نے اسے مچھلی کے پیٹ میں سمندر میں ڈال دیا ہے ، فرشتوں نے کہا: وہ تو ایک نیک آدمی تھے ، جن کی طرف سے روزانہ تیری بارگاہ میں نیک عمل آیا کرتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر فرشتوں نے اس موقع پر سیدنا یونس علیہ السلام کے لئے سفارش کی ، تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا ، تو اس نے انہیں ساحل پر ڈال دیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور وہ بیمار تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے بعض اصحاب کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن کا نام انہوں نے بیان نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2245)»