مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 36 - سُورَةُ فَاطِرٍ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ . باب: سورت فاطر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اُن میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمَّتِي ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ فَثُلُثٌ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَثُلُثٌ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَثُلُثٌ يُمَحَّصُونَ وَيُكْشَفُونَ ثُمَّ تَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ : وَجَدْنَاهُمْ يَقُولُونَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، فَيَقُولُ : صَدَقُوا ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا ، أَدْخِلُوهُمُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، وَاحْمِلُوا خَطَايَاهُمْ عَلَى أَهْلِ التَّكْذِيبِ فَهِيَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَتَصْدِيقُهَا فِي الَّتِي ذُكِرَ فِيهَا الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَجَعَلَهُمْ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ وَهُمْ أَصْنَافٌ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ فَهَذَا الَّذِي يُكْشَفُ وَيُمَحَّصُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ فَهُوَ الَّذِي يَلِجُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ بِإِذْنِ اللَّهِ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمْ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مَنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت تین قسم کی ہو گی ، ایک تہائی لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ، ایک تہائی لوگوں سے معمولی حساب لیا جائے گا ، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور ایک تہائی لوگ وہ ہوں گے جن کی تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ، پھر فرشتے آئیں گے ، اور یہ کہیں گے : کہ ہم نے ان لوگوں کو پایا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ لوگ کیا کہتے ہیں ، میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تم لوگ انہیں جنت میں داخل کر دو ! جو ان کے یہ کہنے کی وجہ سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے اور تم لوگ اُن کی خطائیں ، جھٹلانے والوں کے ذمہ ڈال دو ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے : ” اور وہ لوگ ضرور اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور ( ان کے ) اپنے بوجھ کے ہمراہ مزید بوجھ بھی ہو گا “ ۔ اور اس کی تصدیق اس چیز میں ہوتی ہے ، جس میں فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو کر دیا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا “ ۔ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تین حصوں میں بنا دے گا اور وہ حصے یہ ہوں گے : ” ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں “ تو یہ وہ قسم ہے جن سے تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ۔ ” اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “ ۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جن سے آسانی سے حساب لیا جائے گا ۔ ” اور ان میں سے کچھ لوگ ، بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں “ ۔ تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ” اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت “ ۔ یعنی وہ سب لوگ ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت جنت میں داخل ہوں گے ، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اس ( جنت ) میں انہیں سونے اور موتیوں سے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے اور اُس ( جنت ) میں ان کا لباس ریشم کا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ہے ، بے شک ہمارا پروردگار ، مغفرت کرنے والا اور شکر کو قبول کرنے والا ہے ، جس نے اپنے فضل کے تحت ( دائمی ) قیام کے مقام میں ، ہمیں ٹھہرایا ہے جہاں ہمیں کوئی تھکاوٹ اور تکلیف لاحق نہیں ہو گی ، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہو گی اُن کے بارے میں فیصلہ نہیں دیا جائے گا کہ وہ مر جائیں ، اور اُن کے عذاب میں تخفیف بھی نہیں ہو گی ، اسی طرح ہم ہر منکر کو جزا دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔