حدیث نمبر: 11283
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْمَكْتُومِ ، وَلَوْلَا أَنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنْهُ مَا أَخْبَرْتُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَكَّلَ بِي مَلَكَيْنِ لَا أُذْكَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَيُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا قَالَ ذَانِكَ الْمَلَكَانِ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، وَقَالَ اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ جَوَابًا لِذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَطَّافٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كِتَابِ الْأَدْعِيَةِ وَتَقَدَّمَ بَعْضُهَا فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ، آپ کا کیا فرمان ہے ؟ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر ، رحمت نازل کرتے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز پوشیدہ امور میں سے ہے ، اگر تم نے مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کیا ہوتا ، تو میں نے تمہیں نہیں بتانا تھا ، اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ دو فرشتے مقرر کیے ہیں ، جب بھی کسی مسلمان شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ، تو وہ دونوں فرشتے یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تمہاری بھی مغفرت کرے ، تو اللہ تعالی اور اس کے فرشتے ، ان دونوں فرشتوں کے جواب میں آمین کہتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ بن خطاف ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق ، بقیہ احادیث دعاؤں سے متعلق کتاب میں آئیں گی ، ان میں سے کچھ احادیث نماز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11283
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2753)»