مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اس کے بعد تمہارے لئے خواتین حلال نہیں ہیں “
عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : لَوْ مُتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُنَّ كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ ؟ قَالَ : وَمَا يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لِقَوْلِهِ ( لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ ) قَالَ : إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَزَادَ : كَذَا رَأَيْتُ فِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ زِيَادٌ أَبُو يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ يَرْوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤زیاد انصاری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج انتقال کر جاتیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شادی کرنا جائز ہوتا ؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ حرام کیوں ہو گا ؟ میں نے کہا : اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” اس کے بعد تمہارے لئے دیگر خواتین حلال نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے مخصوص قسم کی خواتین کو حلال قرار دیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور زیاد نامی راوی کا ذکر میں نے ابن حبان کی کتاب ” الثقات “ میں دیکھا ہے ، وہ زیاد ابویحیی انصاری ہے ، اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات نقل کی ہیں ، اگر تو یہ وہی شخص ہے تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ، اور ایک راوی محمد بن ابوموسی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔