حدیث نمبر: 11279
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ الْبَدَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : بَادِلْنِي امْرَأَتَكَ وَأُبَادِلُكَ امْرَأَتِي . أَيْ تَنْزِلُ لِي عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ ) قَالَ : فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَيْنَ الِاسْتِئْذَانُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ إِلَى جَنْبِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ " ، قَالَ : أَفَلَا أَنْزِلُ لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ ؟ قَالَ : " يَا عُيَيْنَةُ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ " . قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا - : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : " أَحْمَقُ مُطَاعٌ وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لَسَيِّدُ قَوْمِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے شخص سے یہ کہتا تھا کہ تم اپنی بیوی میرے ساتھ بدلوا لو ، میں اپنی بیوی تمہارے ساتھ بدلوا لیتا ہوں ، یعنی تم میری خاطر اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لو اور میں تمہاری خاطر اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اور نہ ہی یہ درست ہے کہ تم ان ازواج کی جگہ دوسری بیویاں بدل کر ( اپنے عقد میں لو ) اگرچہ ان کی خوبصورتی تمہیں اچھی لگے “ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عیینہ بن حصن فزاری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں ، وہ اجازت لئے بغیر اندر آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم نے اجازت کیوں نہیں لی ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! جب سے میں بڑا ہوا ہوں ، میں نے کبھی مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے اندر آنے کی اجازت نہیں لی ، پھر اس نے دریافت کیا : آپ کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ عائشہ ہے ، جو اہل ایمان کی ماں ہے ، تو اس نے کہا: کیا میں آپ کی خاطر ایسی خاتون سے علیحدگی اختیار نہ کر لوں جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عیینہ ! اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو حرام قرار دے دیا ہے ، جب وہ شخص چلا گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک احمق شخص تھا ، جس کی پیروی کی جاتی ہے اور تم نے جو اس کی صورت حال دیکھی ہے ، اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11279
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3351)»