حدیث نمبر: 11270
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ : ( وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ) قَالَ : " جَعَلَ مُوسَى هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ " ، وَفِي قَوْلِهِ : ( فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ) قَالَ : " مِنْ لِقَاءِ مُوسَى رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا گیا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اور تم اُس کے ملنے کے بارے میں شک کا شکار نہ ہونا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یعنی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے کے بارے میں ( شک کا شکار نہ ہونا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12758)»