مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ : ( وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ) قَالَ : " جَعَلَ مُوسَى هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ " ، وَفِي قَوْلِهِ : ( فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ) قَالَ : " مِنْ لِقَاءِ مُوسَى رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا گیا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اور تم اُس کے ملنے کے بارے میں شک کا شکار نہ ہونا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یعنی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے کے بارے میں ( شک کا شکار نہ ہونا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔