مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ہم مجرم لوگوں سے انتقام لینے والے ہیں “
حدیث نمبر: 11269
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ أَجْرَمَ : مَنِ اعْتَقَدَ لِوَاءً فِي غَيْرِ حَقٍّ ، أَوْ عَقَّ وَالِدَيْهِ ، أَوْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ فَقَدْ أَجْرَمَ ، يَقُولُ اللَّهُ : ( إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” تین کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص انہیں کرتا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ناحق طور پر جھنڈا باندھے یا اپنے والدین کی نافرمانی کرے یا وہ ظالم کے ساتھ چل کر جائے تو وہ جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک ہم جرم کرنے والوں سے انتقام لینے والے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔