حدیث نمبر: 11253
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَهْلَكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَوْمًا بِعَذَابٍ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعْدَ مُوسَى " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا وَلَفْظُهُ " مَا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمًا قَطُّ بِعَذَابٍ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعْدَ مَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ " يَعْنِي مَا مُسِخَتْ قَرْيَةٌ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے آسمان ، یا زمین سے نازل ہونے والے عذاب کے ذریعے کسی بھی قوم کو ہلاک نہیں کیا ، مگر یہ کہ سیدنا موسی علیہ السلام کے بعد ایسا ہوا “ ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی ، اس کے بعد کہ ہم پہلی قوموں کو ہلاک کر چکے تھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے موقوف اور مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ” اس نے کسی قوم کو آسمان یا زمین سے آنے والے عذاب کے ذریعے ہلاک نہیں کیا ، مگر یہ کہ تورات نازل ہونے کے بعد ایسا ہوا “ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی بستی کو مسخ نہیں کیا گیا ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2247 و 2248)»