مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ “
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ صَاحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ : " يَا آلَ عَبْدِ مَنَافٍ إِنِّي نَذِيرٌ " . فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَحَذَّرَهُمْ وَأَنْذَرَهُمْ ، قَالُوا : تَزْعُمُ أَنَّكَ نَبِيٌّ يُوحَى إِلَيْكَ ، وَأَنَّ سُلَيْمَانَ سُخِّرَ لَهُ الرِّيحُ وَالْجِبَالُ ، وَأَنَّ مُوسَى سُخِّرَ لَهُ الْبَحْرُ ، وَأَنَّ عِيسَى كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى ، فَادْعُ اللَّهُ أَنْ يُسَيِّرَ عَنَّا هَذِهِ الْجِبَالَ ، وَيُفَجِّرَ لَنَا أَنْهَارًا فَنَتَّخِذَهَا مَحَارِثًا فَنَزْرَعُ وَنَأْكُلُ ، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَ لَنَا مَوْتَانَا ، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُصَيِّرَ هَذِهِ الصَّخْرَةَ الَّتِي تَحْتَكَ ذَهَبًا فَنَنْحِتُ مِنْهَا وَتُغْنِينَا عَنْ رِحْلَةِ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، فَإِنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ كَهَيْئَتِهِمْ . فَبَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي مَا سَأَلْتُمْ ، وَلَوْ شِئْتُ لَكَانَ ، وَلَكِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ تَدْخُلُوا بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ ، وَبَيْنَ أَنْ يَكِلَكُمْ إِلَى مَا اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَةِ وَلَا يُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ ، فَاخْتَرْتُ بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ ذَلِكَ ثُمَّ كَفَرْتُمْ أَنَّهُ مُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ " . فَنَزَلَتْ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ حَتَّى قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ ، وَنَزَلَتْ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى - الْآيَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عُمَرَ الْأَيْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُمَا الْجُمْهُورُ . ¤سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل ابوقبیس پر کھڑے ہو کر یہ کہا: اے آل عبدمناف ! بے شک میں ڈرانے والا ہوں ، قریش آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلقین کی اور انہیں ڈرایا ، تو ان لوگوں نے کہا: آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ نبی ہیں اور آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے ، سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا اور پہاڑوں کو مسخر کیا گیا تھا ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لئے سمندر کو مسخر کیا گیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ، مردوں کو زندہ کر دیتے تھے ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ان پہاڑوں کو چلا دے اور ہمارے لئے نہریں بہا دے ، تاکہ ہم کھیتی باڑی شروع کریں ، ہم کھیتی باڑی کر کے کھایا پیا کریں گے ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے مردوں کو ہمارے لئے زندہ کر دے ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ آپ کے نیچے جو چٹان موجود ہے ، وہ سونے کی ہو جائے ، تو ہم اس میں سے سونا نکال لیں گے اور پھر ہمیں سردی اور گرمی کے تجارتی قافلوں کی ضرورت نہیں رہے گی ، اگر آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ بھی ان لوگوں کی طرح ( نبی ہیں ) اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے درست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کر دی ہے ، جو تم کہتے ہو ، اگر میں چاہوں تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن میرے پروردگار نے مجھے اس بات کے بارے میں اختیار دیا ہے کہ یا تو تم رحمت والے دروازے سے داخل ہو اور تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ، یا پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس چیز کے حال پر چھوڑ دے ، جسے تم نے اپنے لئے اختیار کیا ہے ، ایسی صورت میں تم رحمت کے دروازے سے بھٹک جاؤ گے اور تمہارے مومن لوگ ایمان نہیں لائیں گے ، تو میں نے رحمت والے دروازے کو اختیار کر لیا ، تاکہ تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ، اور پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اگر وہ تمہیں یہ چیزیں عطا کر دے اور پھر تم کفر کرو ، تو وہ تم لوگوں کو ایسا عذاب دے گا ، جو تمام جہانوں میں کسی کو بھی نہیں دے گا“ پھر یہ آیت نازل ہوئی : ” اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے ، صرف اس بات نے روکا کہ پہلے لوگوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کو جھٹلایا تھا “ ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تین آیات تلاوت کیں اور اس بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی : ” اگر یہ قرآن ایسا ہو کہ اس کے ساتھ پہاڑ چلیں ، یا اس کے ذریعے زمین کو چیر دیا جائے ، یا اس کی وجہ سے مردوں کے ساتھ بات چیت ہونے لگے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالجبار بن عمر ایلی کے حوالے سے عبداللہ بن عطاء بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔