مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تو شاید تم اپنی جان کو ہلکان کر لو گے اس بات پر کہ وہ مومن نہیں ہوتے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ ) وَنَحْوِ هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحْرِصُ أَنْ يُؤْمِنَ جَمِيعُ النَّاسِ وَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْهُدَى ، فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ ، وَلَا يَضِلُّ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ الشَّقَاءُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قِيلَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم میں کچھ لوگ بد نصیب اور ( کچھ ) خوش نصیب ہیں “ ۔ اور اس طرح کی دیگر سورتوں کے بارے میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی شدید خواہش تھی کہ تمام لوگ مومن ہو جاتے اور ہدایت پر آپ کی بیعت کر لیتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات آپ کو بتائی کہ صرف وہ شخص مومن ہو گا ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ” ذکر “ میں سعادت مندی طے ہو چکی ہے اور صرف وہ شخص گمراہ ہو گا ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ” ذکر “ میں ، بدنصیبی طے ہو چکی ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا : ” شاید تم اپنے آپ کو اس بات پر ہلکان کر لو گے کہ وہ لوگ مومن نہیں ہوتے “ ” اگر ہم چاہیں ، تو ان لوگوں پر آسمان سے آیت نازل کر سکتے ہیں ، تو ان لوگوں کی گردنیں اس ( نشانی ) کے لئے جھکی ہوئی ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ علی بن ابوطلحہ نے ، ایک قول کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔