حدیث نمبر: 11229
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ قَالَ : هَاهُنَا بَرِئَتْ عَائِشَةُ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن زید بن اسلم ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ اس سے لاتعلق ہیں جو وہ ( دوسرے لوگ ) بیان کرتے ہیں “ عبدالرحمن کہتے ہیں : یہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا لاتعلق ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے اور معزز رزق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11229
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/23)»