مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 25 - 1 - سُورَةُ النُّورِ قَوْلُهُ تَعَالَى : الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ زنا کرنے والا مرد صرف زنا کرنے والی عورت یا مشرک عورت کے ساتھ نکاح کرے گا “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ ، كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاتون کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں اجازت مانگی جسے اُم مہزول کہا: جاتا تھا اور وہ ایک فاحشہ عورت تھی اس عورت نے ان صاحب کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ عورت ان پر خرچ کرے گی ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی یا اس عورت کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا تو راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” زنا کرنے والا شخص صرف زنا کرنے والی عورت یا مشرکہ عورت کے ساتھ شادی کرے گا اور زنا کرنے والی عورت کے ساتھ صرف کوئی زانی یا مشرک شخص ہی شادی کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔