مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتا ہو “
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَامَ رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَلَّى رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ " ؟ . قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ - الْآيَةَ . فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : أَلَا أُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْكَ الْهَمَّ وَالْأَذَى ، فَقَالَ : هِيَ مِثْلُ الْآيَةِ الَّتِي فِي الرُّومِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ - الْآيَةَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا رِيَاءً لَمْ يُكْتَبْ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ابوصالح بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ مسجد دمشق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان موجود تھے ان میں ایک سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی تھے سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو ! مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ پوشیدہ شرک کا ہے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ، تو سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص ریاکاری کے طور پر روزہ رکھتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر صدقہ کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر نماز ادا کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے “ ۔ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت بھی تلاوت کی ہے : ” جو شخص اپنے پرودگار کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتا ہو “ ۔ یہ آیت لوگوں پر گراں گزری اور وہ پریشان ہو گئے تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کی پریشانی ختم کرنے کی کوشش نہ کروں ؟ لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ آپ سے بھی پریشانی اور تکلیف دہ چیز کو دور کرے تو آپ نے فرمایا : یہ اس آیت کی مانند ہے جو سورت روم میں ہے ” اور تم جو مال سود کے طور پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال کے ساتھ مل کر وہ بڑھ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھے گا “ ۔ تو جو شخص ریاکاری کے طور پر کوئی عمل کرے گا اسے نوٹ نہیں کیا جائے گا نہ اس کے حق میں نہ اس کے خلاف ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔