مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر ہم چاہیں تو اس چیز کو لے جائیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی نازل کی ہے “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَيُنْزَعَنَّ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ، قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا ؟ قَالَ : يَسْرِي عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَلَا يَبْقَى فِي قَلْبِ عَبْدٍ وَلَا فِي مُصْحَفِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ فُقَرَاءَ كَالْبَهَائِمِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگوں کے درمیان میں سے اس قرآن کو الگ کر دیا جائے گا راوی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے ہیں ، اور کیا ہم نے اسے مصحف کی شکل میں محفوظ نہیں کیا ہوا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ جب یہ کسی بندے کے دل میں نہیں رہے گا اور کسی مصحف میں اس میں سے کچھ نہیں رہے گا اور جب لوگ صبح کریں گے ، تو ان کے قرآن کے عالم جانوروں کی مانند ( علم سے بے بہرہ ) ہوں گے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اگر ہم چاہیں تو ہم اس کو لے جائیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی نازل کی ہے ، اور پھر تم اس کے حوالے سے ہمارے خلاف کوئی وکیل ( کارساز ) نہیں پاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔