مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور سورج ڈھلنے سے لے کر رات پھیلنے تک نماز قائم کرو “
حدیث نمبر: 11134
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ : صَلَّى عَبْدُ اللَّهِ [ ذَاتَ يَوْمٍ ] ، وَجَعَلَ رَجُلٌ يَنْظُرُ هَلْ غَابَتِ الشَّمْسُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا تَنْظُرُونَ ؟ هَذَا - وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ - مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ ، لِقَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ : أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَهَذَا دُلُوكُ الشَّمْسِ وَهَذَا غَسَقُ اللَّيْلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید نخعی بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص دیکھنے لگا کہ کیا سورج غروب ہو چکا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اس نماز کا وقت ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” سورج ڈھلنے سے لے کر رات پھیلنے تک نماز قائم کرو “ ۔ تو یہ سورج کا ڈھلنا ہے ، اور یہ رات کا پھیلنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔