حدیث نمبر: 11107
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْ عَرَضَ لَهُمْ شَيْءٌ يُضْحِكُهُمْ ، فَقَالَ : " أَتَضْحَكُونَ وَذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ؟ " . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرے ان کے سامنے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے وہ لوگ ہنس رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ جبکہ جنت اور جہنم کا ذکر تمہارے درمیان ہوتا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” تم میرے بندوں کو یہ اطلاع دے دو کہ بے شک میں مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہوں اور بے شک میرا عذاب دردناک عذاب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف