مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 16 - سُورَةُ الْحِجْرِ باب: سورت حجر کا بیان جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ ( دنیا میں ) مسلمان ہوتے “
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا اجْتَمَعَ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ وَمَعَهُمْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ قَالَ الْكُفَّارُ لِلْمُسْلِمِينَ : أَلَمْ تَكُونُوا مُسْلِمِينَ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالُوا : فَمَا أَغْنَى عَنْكُمْ إِسْلَامُكُمْ وَقَدْ صِرْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ ؟ قَالُوا : كَانَتْ لَنَا ذُنُوبٌ فَأُخِذْنَا بِهَا . فَسَمِعَ اللَّهُ مَا قَالُوا ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ فِي النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ فَأُخْرِجُوا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْ بَقِيَ مِنَ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ قَالُوا : يَا لَيْتَنَا كُنَّا مُسْلِمِينَ فَنَخْرُجَ كَمَا خَرَجُوا " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : مَتْرُوكٌ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : هَذَا تَجَاوُزٌ فِي الْحَدِّ ، فَلَا يَسْتَحِقُّ التَّرْكَ ، فَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اہل جہنم جہنم میں اکٹھے ہوں گے اور ان کے ساتھ جتنا اللہ کو منظور ہو گا اتنے اہل قبلہ ہوں گے ، تو کفار مسلمانوں سے یہ کہیں گے کہ کیا تم لوگ مسلمان نہیں تھے ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! تو کفار کہیں گے تمہارا اسلام تمہارے کس کام آیا جبکہ تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں ہو ؟ تو وہ لوگ کہیں گے ہمارے کچھ گناہ تھے جس کی وجہ سے ہماری گرفت کی گئی اللہ تعالیٰ کفار کے قول کو سنے گا ، تو اہل قبلہ سے تعلق رکھنے والے جہنم میں موجود افراد کے بارے میں حکم دے گا انہیں وہاں سے نکالا جائے گا جب جہنم میں باقی رہ جانے والے کفار یہ صورت حال دیکھیں گے ، تو کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم بھی یوں ہی نکل جاتے جس طرح یہ لوگ نکل گئے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت کی : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان ہے “ ۔ ” الر یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں : یہ متروک ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس نے حد سے تجاوز کیا تھا لیکن یہ ترک کیے جانے کا مستحق نہیں ہے کیونکہ امام أحمد بن حنبل اور دیگر حضرات نے اس سے روایات نقل کی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔