مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 11 - ( سُورَةُ يُونُسَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ ) قَوْلُهُ تَعَالَى : فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ . باب: سورت یونس کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تو اس چیز پر انہیں خوش ہونا چاہیے یہ اس سب سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں “
حدیث نمبر: 11066
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ : الْقُرْآنُ ، وَرَحْمَتِهِ : أَنْ جَعَلَكُمْ مِنْ أَهْلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم یہ فرما دو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے تو اس حوالے سے ان لوگوں کو خوش ہونا چاہیے یہ ان سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں “ ۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں اللہ کے فضل سے مراد قرآن ہے ، اور اس کی رحمت سے مراد یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہیں اہل قرآن بنایا ہے ( یعنی قرآن کا ماننے والا بنایا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔